https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

9 سال قبل آج ہی کے دن ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے تاریخ عالم میں پاک سرزمین کے نظام عدل کو “کمزور اور بے حس ” ثابت کر کے رکھ دیا۔
24 دسمبر 2012ء کی ایک یخ بستہ رات تھی جب بیس سالہ نوجوان شاہ زیب اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنی ہمشیرہ کا ولیمہ اٹینڈ کر کے گھر آ رہا تھا۔

راستے میں سندھ کے تالپور گھرانے کے چشم و چراغ سراج تالپور نے ان میں سے ایک لڑکی کو چھیڑنا شروع کیا۔ لڑکی کے بھائی شاہ زیب خان نے اسے منع کیا، جھگڑا ہوا اور تالپور کو وہاں سے جانا پڑا۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔


سراج تالپور اپنے دوست، سندھ کے جتوئی خاندان کے بگڑے چشم و چراغ شاہ رخ جتوئی اور دو مزید دوستوں کو لے کر ان کے گھر آیا، پھر سب کی آنکھوں کے سامنے 25 دسمبر 2012ء کو شاہ زیب خان کو شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے سیدھے فائر کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہو گئے۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

طالب علم شاہ زیب کے قتل پر سوشل میڈیا پر تحریک چلی جسے دیکھتے ہوئے عدالت عظمی کے چیف جسٹس نے مداخلت کی اور ملزموں کی گرفتاری کا حکم دیا۔ چنانچہ حکومت پاکستان نے دبئی کے “شہزادوں” کو کہا کہ بندہ حوالے کرو۔ شاہ رخ کو پاکستان واپس لے آ کر جیل میں ڈالا گیا۔

شاہ زیب کا والد ڈی ایس پی تھا، مقدمہ چلا،۔ ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گواہ وغیرہ سب موقع پر موجود تھے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 7 جون 2013ء کو اس مقدمہ قتل کے مبینہ مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج علی تالپور کو سزائے موت اور دیگر ملزمان بشمول گھریلو ملازم غلام مرتضٰی لاشاری اور سجاد علی تالپور کو عمر قید کی سزا سنائی۔

معاملہ چونکہ جتوئی اور تالپور گھرانوں کا تھا، ایسے ختم ہو جاتا تو پھر ہمارے ملک کو “پاکستان” کون کہتا؟

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

چنانچہ مقتول کی فیملی پر دباؤ ڈالنا شروع کیا گیا۔ انہیں دھمکیاں ملیں کہ اگر ہمارے بیٹے نہ رہے تو تمہاری بیٹیوں کو ایک ایک کر کے سربازار ننگا کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔


ستمبر 2013ء میں سبھاگو خان جتوئی نے دونوں خاندانوں کے درمیان میں “صلح” کروائی اور مقتول کے خاندان کو 35 کروڑ روپے کی رقم ادا کی گئی۔ مقتول خاندان نے عدالت میں بیان جمع کروایا کہ انہوں نے ملزمان کو قصاص فی سبیل اللہ معاف کر دیا ہے جس کے بعد عدالت نے چاروں مجرموں کو رہا کر دیا۔ مجرم انگلیوں سے فتح “V” کا نشان بناتے ہنستے کھیلتے عدالت سے باہر آئے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی نثار کھوڑو نے اس بگڑے رائیس زادے کے گال پر “چمی” دے کر اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔


قصاص کےاس طرح کے استعمال پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے برہمی کا اظہار کیا اور حکومت سندھ کو اکتوبر 2013ء میں رپوٹ پیش کرنے کو کہا
لیکن بس اتنا کافی نہ تھا، کیونکہ قتل کے ان مجرمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ بھی عائد تھی جسے کوئی انفرادی طور پر معافی دے کر ختم نہیں کروا سکتا۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

چنانچہ پھر تالپور اور جتوئی گھرانوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ذریعے استغاثہ کو کمزور کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف عدالت میں دہشت گردی کی دفعہ قائم کرنے کے خلاف رٹ دائر کی گئی جس کے جواب میں سندھ حکومت کی طرف سے جان بوجھ کر انتہائی کمزور بیان داخل کیا گیا، مزید یہ کہ قتل کے وقت شاہ رخ جتوئی کی عمر 18 سال سے کم ہونے کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا۔


نتیجے کے طور پر 28 نومبر 2017ء کو سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس سماعت کے لئے سیشن جج بھیجنے کاحکم دیا تھا جب کہ عدالت نے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات بھی ختم کر دی تھیں۔ اس کیس کی سماعت میں ملزمان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو سزا سنائی۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

جتوئی کی عمر 18 سال سے کم تھی اور یہ مقدمہ بچوں کے مقدمات میں آتا تھا جبکہ کیس کے تفتیشی افسر نے شاہ رخ جتوئی کا جو پیدائشی سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا اس پر بھی والد کا غلط نام درج تھا، یہ جھگڑا بھی ذاتی نوعیت کا تھا، اس لیے اس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت میں تو بنتا ہی نہیں تھا۔کراچی کی ضلع جنوبی کی سیشن عدالت نے 19 دسمبر 2017ء کو کیس کی ازسر نو پہلی سماعت میں صلح نامہ اور کیس کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔


سماعت کے آغاز پر مقتول شاہ زیب کے والد نے صلح کے حوالے سے حلف نامہ جمع کرایا۔ جب کہ انہوں نے ایک اور حلف نامہ جمع کرایا جس میں ملزمان کی ضمانت پر رہائی کے حوالے سے کوئی اعتراض داخل نہیں کیا مقتول شاہ زیب کے والد نے عدالت کے روبرو بتایا کہ بیٹے کے قتل کے بعد ملزمان کے اہل خانہ سے صلح ہو گئی تھی، گھر والوں کی مرضی سے ملزمان کے اہل خانہ سے صلح کی اور شاہ زیب کے قاتلوں کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کیا، اس لیے ملزمان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔


چنانچہ 23 دسمبر 2017ء کو سیشن عدالت نے شاہ زیب قتل کیس کے مبینہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کی ضمانتیں منظور ہونے کے بعد رہائی کے احکامات جاری کر دیئے جس کے بعد شاہ رخ جتوئی کو جناح ہسپتال سے رہا کر دیا گیا.
چاروں ملزمان پورے 5 سال بعد رہا ہو کر باہر آئے تو انہوں نے وکٹری کے نشان بنا رکھے تھے جیسے کوئی بہت بڑا فاتح اپنی مقبوضہ سلطنت کی شاہراہوں سے گزرتے ہوئے بناتا ہے۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});


یکم فروری 2018ء کو سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے کیس میں دہشت گردی کی دفعات بحال کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان شاہ رخ جتوئی، سجاد تالپور، سراج تالپور کو حراست میں لے لیا۔ شاہ زیب قتل کیس میں نامزد چوتھا ملزم غلام مرتضی لاشاری جیل میں ہی تھا جو ملزم شاہ رخ جتوئی کا ملازم ہے۔


سپریم کورٹ نے کیس کو دوبارہ سندھ ہائی کورٹ بھیجتے ہوئے ماتحت عدالت کو حکم دیا کہ دو ماہ میں کیس کا میرٹ پر فیصلہ کرے۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کے حتمی فیصلے تک ملزمان کےنام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

12 فروری 2018ء کو سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے حکم پر شاہ ذیب قتل کیس میں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نظر اکبرصاحب پر مشتمل خصوصی بینچ تشکیل دے دیا۔
13 مئی 2019ء کو شاہ رخ جتوئی سمیت 2 مجرموں کی سزائے موت، عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔

فیصلے میں عدالت نے ملزمان اور مقتول کے ورثا کے درمیان ہونے والا صلح نامہ منظور کر لیا اور ریمارکس دیئے کہ عدالت نے شاہ زیب کے قتل میں ملزم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزا صلح نامے کی بنیاد پر ختم کی
چونکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی گئی سزا ناقابل معافی ہے۔

لہذا سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی گئی۔ جبکہ عدالت عالیہ نے شاہ رخ جتوئی کی عمر کے تعین کے حوالے سے دائر اپیل بھی مسترد کر دی۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});


اعتزاز احسن صاحب کی عدلیہ تحریک کے دوران یہ نظم بہت مشہور ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ:
ریاست ہو گی ماں کے جیسی
ہر شہری سے پیار کرے گی

ریاست ہماری واقعی “ماں” جیسی ہے، بس شہریوں کو جتوئی، تالپور، شریف، زرداری جیسے خاندانوں سے ہونا پڑے گا۔ اگر آپ کا تعلق ان خاندانوں سے نہیں تو پھر۔۔۔
ریاست ہو گی ڈائن جیسی
ہر شہری پر ظلم کرے گی

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-1347972388515897 (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});