اسلام آباد میں جوڑے کو ہراساں کرنے کے مقدمے کے چالان میں حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ کس طرح متاثرہ افراد کو ملزمان کے سامنے سیکس کرنے پر مجبور کیا گیا اور لڑکی کو عریاں ڈانس کرنے اور اسکے ڈانس کو فلمانے کے لیے کس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ای-الیون اسلام آباد کے نجی فلیٹ میں جوڑے کو ہراساں کرنے کے الزام میں سات افراد کے خلاف سیشن کورٹ میں جمع کرائے گئے پولیس چالان کے مطابق ، عثمان ابرار عرف عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں نے جوڑے (لڑکے اور لڑکی)کو سیکس کرنے پر مجبور کیا تاکہ وہ اسے فلماء سکیں۔ ان لوگوں کا کام لوگوں کو بلیک میل کرنا اور ان سے پیسے وصول کرنا ہے۔

چالان کے مطابق اس جرم میں سات ملزمان شامل ہیں۔ عثمان کے علاوہ دیگر افراد فرحان شاہین ، حافظ عطاء الرحمن ، ادریس قیوم بٹ ، ریحان حسن مغل ، عمر بلال اور محب بنگش ہیں۔ مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت درج لڑکی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ، عثمان ، ادریس قیوم بٹ اور ان کے ساتھیوں نے اسے اجتماعی زیادتی کی دھمکی دی اگر اس نے اپنے دوست کے ساتھ جنسی تعلقات قائم نہ کیے۔ میں ان کی دھمکیوں کی وجہ سے خوفزدہ تھی۔ انہوں نے مجھ پر تشدد کیا اور میرے دوست کا پتلون زبردستی اتار دیا ، “۔

لڑکی کے بیان میں مزید کہا گیا:” پھر ملزمان نے اسے ان کے سامنے عریاں ڈانس کرنے پر مجبور کیا۔ میرے انکار پر عثمان مرزا نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ اس نے مجھے تھپڑ مارا اور مجھے اپنے دوستوں کے سامنے عریاں چلنے پر مجبور کیا ، “۔

لڑکی نے بیان دیا کہ ملزم اس کے عریاں رقص سے لطف اندوز ہوا اور اس نوجوان سے 6 ہزار روپے بھی چھین لیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد ملزم نے جوڑے کو بلیک میل کرنا اور بھتہ لینا شروع کیا۔ چالان کے مطابق عمر بلال نے مختلف مواقع پر متاثرہ شخص سے 12 لاکھ روپے وصول کیے۔

اس نے کہا کہ عثمان نے بھتہ کی گئی رقم میں سے 6 لاکھ روپے ، عمر بلال نے ڈیڑھ لاکھ روپے ، محب بنگش نے سوا لاکھ روپے ، ریحان حسین مغل نے 1 لاکھ روپے اور بقیہ نے پچاس ہزار روپے کا شئیر حصہ لیا۔

پولیس نے عمر بلال سے ایک لاکھ روپے ، محب بنگش سے 7 لاکھ روپے اور ریحان مغل سے ستر ہزار روپے برآمد کیے ہیں۔ پولیس نے ملزم کے موبائل فونز کو فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا ہے اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سے بھی مدد کی درخواست کی ہے۔ چالان میں بتایا گیا کہ گولڑہ پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر عاصم غفار نے موبائل فون پر قابل اعتراض ویڈیو دیکھنے کے بعد ملزم کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرادی ہے۔