ذراِع کے مطابق ساوٴتھ ترکی کے جنگلوں میں لگنے والی آگ کی لپیٹ میں 16 اضلاع آ چکے ہیں۔ اب تک کی خبروں کے مطابق 21 شہروں کے 71 مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ترکی میں ہونے والے نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔

بہت سے شہروں کو خالی کرویا جا چکا ہے اور سینکڑوں افراد کو مخفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔ جبکہ اب تک 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بہت سی جگہوں پرلوگوں کے جانور اور انکی پناہگاہیں شدید آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ ترکی سے شئیر کی جانے والی تصاویر آگ کی ہولناکہوں کی کہانی سنا رہی ہے۔ اس گھڑی پاکستانی اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ترکی میں آتشزدگی کی وجوہات

موسم گرما کے دوران ترکی میں جنگل کی آگ عام ہے ، لیکن پچھلے کچھ دنوں میں آتشزدگی غیر معمولی رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت پہلے سے چار گنا زیادہ رہی ہے۔ یورپی سیاحوں میں مقبول ساحلی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہفتے کے آخر میں ، سیاحوں اور مقامی لوگوں کو ملک کے جنوب مغرب میں بودرم اور مارمریز سے نکالنا پڑا۔ ایک معاملے میں پرائیویٹ کشتیاں بچاؤ کے لیے آئیں جب آگ کے شعلے پانی کے قریب پہنچ گئے۔

ماہرین ماحولیات کئی دہائیوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ بحیرہ روم کے مقامات اس طرح کے ماحولیاتی آفات سے متاثر ہوں گے۔ موجودہ ہیٹ ویو نے بلاشبہ آگ کو بھڑکا دیا ہے۔ تاہم ، تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا کچھ آگ جان بوجھ کر شروع کی گئی تھی ، اور اطلاعات ہیں کہ ایک مشتبہ آتش گیر کو حراست میں لیا گیا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے دور ہونے کی کوئی بات نہیں ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کی بدولت ، ترکی بہت گرم ، خشک موسم گرما کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کا 60 سالہ درجہ حرارت کا ریکارڈ پچھلے ہفتے ٹوٹ گیا جب جنوب مشرق میں واقع قصبہ سیزر میں 49 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔